ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکرعلی لاریجانی نے پاکستان کےدارالحکومت اسلام آـاد میں قائداعظم یونیورسٹی کے طلباء کے ایک اجتماع میں ان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شام میں ہتھیار بھیجنے والے ممالک خود اعتراف کررہے ہیں ہم نہیں بھیج رہے ہیں ہم نے حماس کو ہتھیار بیجھے اور حماس نے ایرانی ہتھیاروں کے ذریعہ اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا اور اس کا ہم آشکارا اعلان کررہے ہیں کہ ہم فلسطینیوں کی مدد کررہے ہیں۔ لاریجانی نے کہا کہ ہماری طرف سے فلسطینیوں کی حمایت کسی سے پوشیدہ نہیں اور نہ ہی ہم اس کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ہم آشکارا فلسطینیوں کی مالی حمایت کررہے ہیں۔ لاریجانی نے ایران کے ایٹمی سوال کا جوابدیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ فکر کرتے ہیں کہ مغربی ممالک کو ایران کی ایٹمی ٹیکنالوجی پر تشویش ہے یہ ان کی ظاہری تبلیغ اور پروپیگنڈہ ہے وہ پس پردہ کچھ اورکہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایکیورپی وزیر خارجہ نے خود کہا کہہمیں ایران کے ایٹمی پروگرام اور اس کے ایٹمی ہتھیاروں پر کوئیتشویش نہیں ہے ہمیں فلسطین کے بارے میں ایران کےمؤقف پر تشویش ہے۔ لاریجانی نے کہا کہ ہم آج فلسطینیوں کی مد بند کردیں ہماری تمام مشکلات حل ہوجائیں گی ہم پر سب دباؤ فلسطینیوں کی حمایت کی وجہ سے ہے۔
.......
/169